خوبصورتی کا راز کیا ہے؟ (What is the Secret of Health and Beauty)
ایک تحقیق کے دوران جب دنیا کی مشہورترین خوبصورت عورتوں سے ان کی خوبصورتیکا رازپوچھا گیا تو بیشر نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ اپنی خوبصوتی کو براقراررکھنے کے لئے روغنِ بادام اور عرق گلاب کا استعمال کرتی ہیں۔ پرنسپل حکیم محمد کبیرالدین طبیہ کالج دہلی میزان الطب میں رقم طرازہیں۔
’’حسن و صحت کو برقرار رکھنے کیلئے معدہ کو تقویت دینے والی اشیاء اور ادویات استعمال کرنی چاہیے۔ جن میں موسمی پھل اور سبزیات شامل ہیں اور ساتھ ہی مختلف روغنیات سے بدن کی اور جوڑوں اور سر کی مالش کرنی چاہیے جس سے حسن و شباب قائم رہتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر حکیم مرزا منور بیگ (ایم اے) پروفیسر طبیہ کالج فاضل طب و جراحت اس سلسلہ میں فرماتے ہیں۔
’’ قدیم تاریخ طبِ انسانی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونان اور روم میں لوگ حسن و صحت برقرار رکھنے کیلئے کمر اور تمام بدن کی مختلف روغنیات سے مالش کرتے تھے۔ مغلیہ دور کی تاریخ میں اس قسم کے مشاہدات عام ملتے ہیں کہ عورتیں اپنے حسن کوقائم رکھنے کیلئے دودھ اور روغنوں سے بدن پر مالش کرتی تھیں۔ مصری خواتین میں بھی اپنے حسن وجمال کو قائم رکھنے کیلئے مختلف روغنیات استعمال کرنے کے واقعات ملتے ہیں۔ ان روغنیات میں پام آئل، روغن بادام اور روغن زیتون شامل تھا‘‘۔
حسن اورشباب کی دشمن
چارچیزیں آپ کے حسن کی دشمن ہیں۔ کثرت گفتار، زیادہ سونا، زیادہ کھانا اور بکثرت جماع کرنا۔
·         کثرت گفتار سے دماغ کا مغز کم ہوجاتا ہے، یہ کمزور ہوجاتا ہے اور بڑھاپا جلدآجاتا ہے۔
·         زیادہ کھانے سے بدن بوجھل ہوجاتا ہے، انسان پر ہر وقت نیند کا غلبہ رہتا ہے، انسانی اعضا سست اور ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔
·         زیادہ سونے سے چہرہ پر زردی آجاتی ہے، دل اندھا ہوجاتا ہے، آنکھ میں ہیجان پیداہوتا ہے،جسم پر سستی چھائی رہتی ہے اورجسم میں رطوبات کی مقداربڑھ جاتی ہے۔

·         کثرتِ جماع سے بدن میں پروٹین کی کمی ہوجاتی ہے۔بدن کمزوراوراعضائے رئسیسہ لاغر ہوجاتے ہیں۔ بدن میں موجود رطوبات خشک ہوجاتی ہیں جس سے نیند کی کمی اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔ جماع کی زیادتی کا سب سے بُڑا اثر ماغ پر ہوتا ہے کیونکہ جب مادہ تولید ایک خاص تناسب سے زیادہ خارج ہوجائے تو اس سے روحِ نفسانی غیرمعمولی طور پر تحلیل ہوجاتی ہے۔